لکھنؤ،10اگست؍(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا )اتر پردیش اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں تیز ہونے کے درمیان کانگریس کے تین معطل ممبران اسمبلی اور سماج وادی پارٹی کے ایک موجودہ رکن اسمبلی نے آج بی ایس پی کا دامن تھام لیا۔رام پور کی سوار سیٹ سے ممبر اسمبلی نواب کاظم علی خاں، تلوی سیٹ سے ممبراسمبلی ڈاکٹر مسلم خاں اور سیانا سیٹ سے ممبر اسمبلی دل نواز خاں(تینوں کانگریس)اور بڑھانا سیٹ سے ایس پی ممبراسمبلی نوازش عالم خاں بی ایس پی کے سیکرٹری جنرل اور قانون ساز کونسل میں اپوزیشن کے لیڈر نسیم الدین صدیقی اورپارٹی کے صوبائی صدر رامچل راج بھر کی موجودگی میں بی ایس پی میں شامل ہو گئے۔صدیقی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بی جے پی کے سینئر لیڈر سابق وزیر اودھیش ورمانے بھی بی ایس پی کی پالیسیوں میں یقنی ظاہر کرتے ہوئے پارٹی کا دامن تھام لیاہے۔ان تمام لوگوں کے آنے سے بی ایس پی کو مضبوطی ملے گی۔اس درمیان کانگریس کے ریاستی نائب صدر ستیہ دیوترپاٹھی نے تین ممبران اسمبلی کے بی ایس پی میں شامل ہونے پر کہا کہ وہ سب کے سب معطل ممبر اسمبلی ہیں اور وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔اس سے کانگریس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔یہ پوچھے جانے پر کہ بی ایس پی میں شامل ہونے والے ان لیڈروں کو آئندہ اسمبلی انتخابات کا ٹکٹ ملے گا یا نہیں؟ ۔صدیقی نے کہا کہ ابھی اس بارے میں انتظار کرنا پڑے گا۔اسمبلی میں کانگریس کے چیف وہپ رہے ڈاکٹرمسلم خاں نے اس موقع پر الزام لگایا کہ انہوں نے کانگریس صدر سونیا گاندھی، نائب صدرراہل گاندھی اور پارٹی کی اسٹار پرینکا گاندھی کے ساتھ کام کیا ہے لیکن ان لیڈروں کو گھیرنے والے چاپلوس لوگ انہیں گمراہ کرکے غلط فیصلے کرواتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سونیا، راہل اور پرینکا توقعات پر کھرے نہیں اترے، اس لئے وہ بی ایس پی کا دامن تھام رہے ہیں۔